ہاپور26/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) اُترپردیش کے ہاپور میں پیش آئے ایک دردناک ٹرین حادثے میں چھ لڑکے ہلاک ہو گئے جبکہ ایک نوجوان شدید زخمی ہوگیا۔ واردات اتوار کی رات پیلخوا کے صادق پور کے قریب پیش آئی ۔ اطلاعات کے مطابق، پیلخوا کے سات نوجوان کام پر جانے کے لئے حیدرآباد جانے والی ٹرین پکڑنے کے لئے اسٹیشن پر پہنچے تھے لیکن ان کی ٹرین چھوٹ گئی ۔ بعد میں ساتوں دوست باتیں کرتے ہوئے ریلوے ٹریک پر چلتے ہوئے گھر جا رہے تھے.کہ اس دوران اچانک پیچھے سے ٹرین کی آواز سنائی دی اور آواز سنتے ہی ساتوں اُس ٹریک سے اُتر کر دوسرے ٹریک پر آئے ، مگر اُس دوران اُس ٹریک پر سامنے سے ایک انجن آرہا تھا، جس کی زد میں ساتوں دوست آگئے۔ بتایا گیا ہے کہ انجن ساتوں کو روندتا ہوا آگے بڑھا۔
حادثے میں پانچ دوستوں کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی، جبکہ دو کو شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال لے جایا گیا، جہاں زخموں کی تاب نہ لاکر ایک اور دوست چل بسا۔ایک لڑکے کا علاج جاری ہے۔البتہ اُس کی بھی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ساتوں دوستوں کی عمریں 14 سے 16 سال کے درمیان ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ساتوں دوست شادی کی محفلوں میں کھانا پکانے کا کام کرتے تھے۔
مرنے والوں کی شناخت راہول، وجئے، اکاش، عارف، سلیم اور سمیر کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان نوجوانوں کا تعلق پیلخوا اور اُس کے قریبی دیہات صادق پور سے تھا۔ پولیس نے نوجوانوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا اور گھروالوں کو حادثے کی جانکاری دی ۔ گھروالوں کو اچانک ہوئے حادثے میں موت کی خبر پہنچتے ہی وہ سیدھے اسپتال پہنچ گئے، جہاں گھروالوں اور اُن کے رشتہ داروں میں کہرام مچ گیا۔
ٹرین کے انجن کی زد میں آکر چھ لڑکوں کی موت کی اطلاع ملتے ہی دیہاتیوں کی ایک بڑی تعداد ریلوے اسٹیشن پہنچی اور ٹریک کو گھیر کو ہنگامہ برپا کیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ انجن کو روکا جاسکتا تھا اور نوجوانوں کی جانوں کو بچایاجاسکتا تھا، مگر ریلوے حکام نے لاپرواہی برتی ہے جس کے نتیجے میں اتنا بڑا جان لیوا حادثہ ہوا ہے۔ واقعے کی جانکاری ملتے ہی پولس فورس موقع پر پہنچ گئی اور دیہاتیوں کے غصے کو کافی مشکل کے بعد ٹھنڈا کرایا گیا۔ سپرنٹنڈ نٹ آف پولس موہن سنگھ بھی حادثے کی خبر ملتے ہی اسٹیشن پہنچے اور دیہاتیوں سے بات چیت کی اور حادثے کے تعلق سے جانکاری حاصل کی۔